Ticker

8/recent/ticker-posts

عامرلیاقت کےپوسٹمارٹم کےفیصلے پرطوبیٰ انورکا موقف بھی آگیا

 

عامرلیاقت کےپوسٹمارٹم کےفیصلے پرطوبیٰ انورکا موقف بھی آگیا

عدالت نے قبرکشائی کا حکم دیا ہے

ڈاکٹرعامرلیاقت حسین کی قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کے عدالتی فیصلے پران کی دوسری سابقہ اہلیہ طوبیٰ انورنے بھی آواز اٹھائی ہے۔

عامرلیاقت حسین کا اچانک انتقال ان کےمداحوں کے لیے تاحال باعث تشویش ہے کیونکہ ان کی موت کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکاتھا۔

کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے شہری کی جانب سے دائرکردہ درخواست پرہفتہ 18 جون کو ڈاکٹرعامرلیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا فیصلہ سنایا تھا۔ درخواست گزارکا موقف تھا کہ عامرلیاقت کے مداحوں میں اچانک انتقال کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، شبہ ہے کہ انہیں جائیداد کے تنازع پرقتل کیا گیا ہے لہذاٰ پوسٹ مارٹم کیلئے خصوصی بورڈ تشکیل دیا جائے۔

عامرلیاقت کے پوسٹ مارٹم کے عدالتی پرفیصلے پرگزشتہ روز پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سعید کی سربراہی میں 6 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے ، ٹیم جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی موجودگی میں جمعرات 23 جون کی صبح عبداللہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں قبرکشائی کے لیے روانہ ہوگی۔

طوبیٰ نے اپنی ٹویٹس میں کہا کہ اگرعامرلیاقت کا پوسٹ مارٹم کرواناہی تھا تو ایسا ان کے انتقال کے روزکرنا بہتر ہوتا، ایک ہفتے سے زائد گزرجانے کے بعد قبرکشائی لواحقین کے لیےانتہائی تکلیف دہ ہے۔

سابقہ اہلیہ نے مزید لکھا کہ، “تاہم مجھے اللہ کی مر ضی پربھروسہ ہے ، میرا یقین ہے کہ اللہ پاک ہمارے معاملات کا بہترین انتظام کرنے والا ہے،اللہ پاک مرحوم اورلواحقین کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے”۔


اس سے قبل پہلی سابقہ اہلیہ ڈاکٹربشریٰ اقبال نے بھی اس حوالے سے ٹویٹس میں تفصیلات بتاتے ہوئے مداحوں کے سامنے سوال رکھا کہ کیا وہ اس حق میں ہیں کہ عامرلیاقت کو روح کو اذیت پہنچائی جائے۔

بشریٰ اقبال کی جانب سے معاملے پرآوازاٹھانے کے بعد عشنا شاہ، وسیم بادامی، ریشم اور بشریٰ انصاری سمیت معروف شخصیات نے بھی اس حوالے سے ردعمل میں پوسٹ مارٹم کے فیصلے کی مذمت کی ۔

واضح رہے کہ عامر لیاقت 9 جون کو اپنی رہائشگاہ سے اسپتال لے جائے گئے تھے جہاں ڈاکٹرزنے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ اہل خانہ کی جانب سے پوسٹمارٹم سے انکار کے بعد عامر لیاقت کی تدفین 10 جون کو کراچی میں عبداللہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں کی گئی تھی۔

وسیم بادامی نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ پوسٹ مارٹم کے بغیرعامرلیاقت کی تدفین بھی مجسٹریٹ کے حکم پرہی کی گئی تھی، برائے مہربانی ان کے بچوں کو مزید تکلیف نہ دیں ۔

بشریٰ انصاری نے بھی یہی درخواست کی کہ عامرلیاقت کو مزید رسوا کرنے کے بجائے سکون سے رہنے دیا جائے، پہلے ہی ان کے بچے کئی محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔

ریشم نے لکھا کہ پوسٹ مارٹم دردناک اور خوفناک عمل ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے