Ticker

8/recent/ticker-posts

پنجاب کا بجٹ دوسرے روز بھی پیش نہ ہوسکا، اسمبلی اجلاس ملتوی


 


اسپيکر پنجاب اسمبلي پرويز الٰہی کی ضد کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں مسلسل دوسرے روز بھی بجٹ پيش نہ کيا جاسکا، اسپیکر نے اجلاس کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ گورنر پنجاب نے کل (بدھ کو) 3 بجے ایوان اقبال میں پنجاب اسمبلی اجلاس طلب کرلیا۔

پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان مسلسل دوسرے روز تلخیاں جاری رہیں، پنجاب اسمبلی اجلاس کئی گھنٹے بعد بھی شروع ہوسکا، اسمبلی ميں حکومتی اور اپوزيشن اراکين آمنے سامنے آگئے، ايک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے، اسی دوران عطاء اللہ تارڑ بھی ايوان پہنچ گئے اور اسپیکر ڈائس کے سامنے کرسی ڈال کر بیٹھ گئے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بجٹ اجلاس دوپہر ایک بجے طلب کیا تھا، تاہم 10 بجے تک اجلاس نہ ہوسکا، جس کے بعد پرویز الٰہی نےپنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس کل (بدھ کی) دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔

اسپيکر پنجاب اسمبلی کا مؤقف ہے کہ جب تک چیف سيکریٹری اور آئی جی پنجاب نہيں آتے اجلاس شروع نہیں ہوگا، رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی بھی تمام دن پنجاب اسمبلی ميں موجود رہے، انہوں نے ناصرف اپوزيشن کی پارليمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کی بلکہ حکومتی وزراء سے بھی مذاکرات کرتے رہے۔

اسپیکر کی جانب سے اجلاس ملتوی کئے جانے کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایوان اقبال میں بدھ کی دوپہر تین بجے طلب کرلیا۔

پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد سینئر وزیر اویس لغاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عطاء تارڑ ہمارا وزیر ہے ہم نے کہا اسے آنے دیں، ہم نے کل کہا تھا آئین اپنا راستہ نکالتا ہے۔

عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ کل مجھے ایوان سے باہر نکالنے کی کوشش کی گئی، پنجاب کابینہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا، اسپیکر بادشاہ سلامت کی طرح اسمبلی کو چلاتے ہیں، آپ کا حق نہیں تھا مجھے روکتے، آپ کا بیٹا کمیٹی میں کیسے بیٹھا ہے؟، آپ مجھ سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟، چوہدری صاحب آپ نے تذلیل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مزدور کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار کردی، ہم غریب کیلئے ریلیف لاتے ہیں، آپ سودے بازی کرتے ہیں، اہلکار کمال کے بچوں سے پوچھیں وہ کیسے گزارا کررہے ہیں، پولیس اہلکار کو آپ نے قتل کیا، آپ فاشسٹ ترین لوگ ہیں، آپ کے بیٹے کے قصے نکلیں گے تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، آپ کو سیاہ سفید کا مالک نہیں بننے دینگے، ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔

ن لیگی رہنماء کا کہنا ہے کہ دعوت دیتے ہیں آپ ایوان اقبال تشریف لائیں، اور اجلاس کی صدارت کریں، آپ ہر پارٹی کیساتھ اقتدار میں شراکت دار رہے، آپ نے ہمارے ساتھ بدی کی، ہم نیکی کریں گے، گورنر نے اجلاس بلالیا، کابینہ نے سمری کی منظوری دیدی، عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، پرویز الہٰی سے بدلہ نہیں لینا چاہتے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ آج قانون کے مطابق اجلاس جاری تھا، میں نے اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کی دعوت دی، اویس لغاری نے کہا گورنر صاحب نے اجلاس برخاست کردیا، اجلاس بلانے کیلئے گورنر سیکریٹری اسمبلی کو لکھتا ہے، اسپیکر کے ہوتے ڈپٹی اسپیکر اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل اجلاس میں سب آئیں گے، ان کو بھی دعوت دیتے ہیں آجائیں۔

راجہ بشاورت کا کہنا ہے کہ جو شخص اسمبلی کا ممبر نہیں، اسے ایوان میں بٹھادیا گیا، کل ایک بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کی زیرصدارت ہوگا۔

ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب آئینی طور پر کہیں بھی اجلاس طلب کرسکتے ہیں، گورنر پنجاب نے اجلاس ایوان اقبال میں کل طلب کیا ہے، گورنر کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی کو اجلاس کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کی صدارت میں کرونگا، یہ 41واں اجلاس طلب کیا گیا ہے، پینل سمیت تمام معاملات طے کئے جائیں گے، ملک اور قوم کی خدمت کیلئے کام کرنا ہمارا فرض ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے