Now Reading:
دھوکہ دہی کے الزام میں 42 ہزار ایپلی کیشنز بند

دھوکہ دہی، جعل سازی اورلوگوں کوٹھگنے کا سلسلہ زمانہ قدیم سے ہی چلتا آرہا ہے۔ برصغیرمیں برطانوی راج سے قبل تو پیشہ ورٹھگ بننے کے لیے کسی ماہر’ استاد ‘ کی شاگردی میں آنا ضروری ہوتا تھا۔
اوران کی تربیت ایسی کہ ’ آنکھ سے کاجل صاف چُرالیں وہ چوربلا کے ہیں ‘کی کہاوت کی عملی تفیسربنے پھرتے تھے۔
گزرتے وقت اورٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی تیزرفتارترقی نے گرچہ ٹھگوں کا قصہ توختم کردیا، لیکن دھوکہ دہی اورجعل سازی کی نئی شکل انٹرنیٹ پرمختلف شکلوں میں سامنے آگئی ہے۔
جعل سازوں نے سادہ لوح اورکم وقت میں زیادہ پیسے بنانے کے خواہش مند افراد کے لیے پہلے ایس ایم ایس اوربعدازاں موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے لوگوں کوان کی محنت کی کمائی سے محروم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
سرمایہ کاری، کرپٹوکرنسی اوربنا کوئی کام کیے پیسوں کودوگنا کرنے کا لالچ صرف پاکستانی عوام کا ہی خاصہ نہیں ہے بلکہ چین جیسے ملک میں بھی روزانہ ہزاروں افراد ڈیجیٹل دھوکہ دہی کا نشانہ بنتے ہیں۔
چین میں اس سلسلے میں اب تک 42 ہزارایسی ایپلی کیشنزکوبند کردیا گیا ہے۔ جوکہ سرمایہ دارکمپنیوں کے بھیس میں عوام کولوٹنے میں ملوث تھیں۔
چین میں سائبرکرائم کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے ’ دی سائبراسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا‘ ( سی اے سی) کے مطابق عوام کوان کی محنت کی کمائی سے محروم کرنے کے لیے ان کمپنیوں نے ویب سائٹ اسپوفنگ کرتے ہوئے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی ویب سائٹ بشمول جے ڈی فنائنس سے مشابہت رکھنے والی سائٹ بنا رکھی تھی۔
حکومت کودھوکہ دہی کے حوالے سے ملنے والی بے تحاشا شکایتوں کے بعد مواصلاتی نیٹ ورک پرمنظم طریقے سے کام کرنے والے جرائم پیشہ عناصرکے خلاف کارروائی کی گئی۔
سی اے سی کی ویب سائٹ پرجاری بیان کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں تقریبا 42 ہزارموبائل ایپلی کیشنزاورویب سائٹ کوبند کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپ اسٹورزاوردیگرپلیٹ فارمزکواپنی ایپ کی سیکیورٹی اسکروٹنی کے ساتھ ساتھ جعلی ایپ کو ڈاؤن لوڈ ہونے سے روک دیا جائے۔
چین کے ریاستی میڈیا کے مطابق حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجےمیں جون 2021 کے بعد کے اگلے 9 ماہ میں چین میں مواصلاتی فراڈ میں کمی واقع ہوئی۔
یادرہے کہ گزشتہ سال دسمبرمیں سی اے سی نے دوماہ کے لیے ایک خصوصی آپریشن کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت تمام آن لائن پلیٹ فارمزبشمول سوشل میڈیا نیٹ ورک اورویڈیوشیئرنگ ویب سائٹ پرموجود جعلی اکاؤنٹ اورمعلومات کے خاتمے کے لیے اسکروٹنی کی گئی۔
دوماہ کے اس آپریشن میں ریگولیٹرزکی جانب سے مختلف شعبہ جات کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں ٹیکنالوجی، ریئل اسٹیٹ، گیمنگ، تعلیم، کرپٹوکرنسی سے منسلک ویب سائٹ اورویب پیج شامل تھے جوگمراہ کن مارکیٹنگ کے ذریعے لوگوں کے ساتھ جعل سازی کررہے تھے۔
0 تبصرے