
کینسر کا پتہ لگانے والے بیت الخلا، آنکھوں میں نصب کمپیوٹر اور “روحوں کی لائبریری” جہاں ہم اپنے مرحومین کو دیکھ سکتے ہیں، یہ چند دماغ کو حیران کرنے والی ایجادات اور پیشرفت ہیں جو ممکنہ طور پر ہمارے بچوں اور پوتے پوتیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔
پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2077 تک سائنسی علم میں آج کے دور کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہوگا۔
چِپس انسانوں سمیت ہر چیز میں مربوط کی جا سکتی ہیں، مصنوعی ذہانت کے ساتھ بیماری کا علاج کرنے، بھوک کو ختم کرنے اور یہاں تک کہ نوآبادیاتی جگہ بھی انہیں لگایا جاسکتا ہے۔
دلچسپ سائنسی دستاویزی فلم “2077 – 10 سیکنڈز ٹو دی فیوچر، میوٹیشن” میں سال 2077 کے حوالے سے لیے کچھ انتہائی عجیب اور حیرت انگیز پیش گوئیوں پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔
روبوٹس کا کنٹرول
مشینوں کا اثر ہماری زندگیوں میں پہلے سے موجود ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ صرف سمندر میں تیرتے برفانی تودے کا اوپری سرا ہے۔
مستقبل میں، روبوٹس کو انٹیلی جنس (ذہانت) دی جائے گی تاکہ وہ لوگوں سے سیکھنے اور فیصلہ لینے میں ان کی مدد کرنے کر سکیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے نک بوسٹروم کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) تمام شعبوں کو نئی ادویات کی دریافت اور بیماری کے علاج سے لے کر معاشی اشیاء کی پیداوار کے چیلنج کو حل کرنے میں کردار ادا کرے گی، تاکہ لوگوں کو غربت میں زندگی گزارنے کی ضرورت نہ پڑے۔
یہ کھیلوں، فنون، موسیقی کے ساتھ ساتھ خلا کی نوآبادیات کے لحاظ سے مزید “معنی خیز” تفریح کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
اور کوئی بعید نہیں کہ ہم روبوٹس پر اسی طرح منحصر ہوجائیں جس طرح ہم واشنگ مشینوں اور ڈش واشرز جیسے آلات پر انحصار کرتے ہیں۔
لیکن اگر روبوٹس ہمارے خلاف ہو جائیں تو کیا ہوگا؟
نیو یارک کے سٹی کالج کے نظریاتی طبیعیات دانمیچیو کاکوکا کہنا ہے کہ صدی کے آخر تک روبوٹ بندروں کی طرح ہوشیار ہو جائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا “اس وقت تک وہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ “میں ذاتی طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں ان کے دماغوں میں ایک چپ رکھنی چاہیے تاکہ اگر وہ قاتل بن جائیں تو انہیں بند کیا جاسکے۔”
کینسر کی تشخیص کرنے والے بیت الخلا
2022 میں دو میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی کے دوران کینسر ہونے کی امید ہے۔ لیکن 2077 میں ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ سب اس سے متاثر ہوں گے۔
لیکن یہ کوئی بری خبر نہیں ہے، کیونکہ بیماری سے پہنچنے والے نقصان پر قابو پانے اور مریضوں کے معیار زندگی میں بہتری کے آپشنز تب بھی موجود ہوں گے۔
ڈاکٹر کاکو نے کہا کہ “مستقبل میں ہمیں کینسر اسی طرح ہوگا جس طرح ہمیں عام زکام ہوتا ہے لیکن یہ آج کی طرح خوفناک بیماری نہیں ہوگی۔
“ذاتی طور پر مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے پاس کینسر کا ایک ہی علاج ہوگا کیونکہ کینسر ایک بیماری نہیں ہے۔”
لیکن انہوں نے کہا کہ بیماری سے نمٹنے اور اس کا پتہ لگانے کے طریقے ڈرامائی طور پر بدل چکے ہوں گے۔
ایک کلپ میں انہوں نے تجویز کیا کہ آپ کے ٹوائلٹ میں ایک چپ جسمانی سیال کا تجزیہ کرنے اور کینسر کا پتہ لگانے کے قابل ہوگی۔ یعنی فوری طور پر آپ کا باتھ روم آپ کو الرٹ کر دے گا۔
آنکھوں میں نصب کمپیوٹر
2077 تک توقع ہے کہ انسان “ٹیکنالوجی کی غیر مادیت پسندی” کو دیکھ پائیں گے۔
تب موبائل فون سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز نہیں رہے گا اور کمپیوٹر ہماری میزوں پر نہیں ہوں گے، وہ پوشیدہ ہو جائیں گے۔
لوگ ذہنی طور پر انٹرنیٹ سے جڑ جائیں گے اور ہمارے اردگرد کی ہر چیز ’’سمارٹ‘‘ ہو جائے گی۔
پال سیفو کہتے ہیں کہ “آپ کا ریفریجریٹر ممکنہ طور پر نیٹ ورک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہوگا، آپ کو یہ بھی احساس نہیں ہوگا کہ آپ کے پاس دودھ کم ہو رہا ہے اور یہ وقت پر پہنچا دیا جائے گا۔”
ڈاکٹر کاکو نے مزید کہا کہ “آپ کمرے میں جا کر صرف دیواروں سے بات کریں گے اور دیواریں آپ سے بات کریں گی۔”
میچیون نے کہا کہ لوگ صرف اپنی آنکھوں میں کمپیوٹر استعمال کریں گے۔ کسی ہینڈ سیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی، آپ کو صرف سوچنے کی ضرورت ہوگی، اور انٹرنیٹ “برین نیٹ” بن جائے گا۔
آپ کا علاج روبو ڈاکٹر کریں گے، آپ کبھی اکیلے نہیں مریں گے
حالیہ امریکی مطالعات میں، دنیا کے تین سرفہرست ریڈیولوجسٹس نے مصنوعی ذہانت والی مشین کے ساتھ ساتھ کچھ ایم آر آئی اسکینز کو دیکھا۔
مشینیں کینسر کا پتہ لگانے میں کبھی ناکام نہیں ہوئیں لیکن ریڈیولوجسٹ 7 فیصد کیسز میں ناکام رہے۔
یورپی کمیشن میں تحقیق، اختراعات اور سائنس کے کمشنر کارلوس موئڈاس نے کہا کہ، “اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبی پیشے میں بہتر تبدیلی آئے گی۔”
انہوں نے کہا کہ “کیونکہ ریڈیولوجسٹ کا ردعمل یہ نہیں کہ یہ مشینیں ان کی جگہ لے رہی ہیں، بلکہ مشین ان کی مدد کر رہی ہے۔ تاکہ وہ مریض کو بالکل مختلف انداز میں دیکھ سکیں۔”
ڈاکٹر کاکو نے دعویٰ کیا کہ صحت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت ایک “روبو ڈاکٹر” کی ترقی کو دیکھے گی، جو علامات کا اندازہ لگانے اور طبی مدد کے لیے کال کرنے کے قابل ہوگا۔
کاکو کہتے ہیں کہ “مستقبل میں، اگر آپ صبح اٹھیں گے اور اپنے سینے میں درد محسوس کریں گے، تو آپ کیا کریں گے؟ آپ دیوار پر جائیں یا اپنی کلائی پر بندھی گھڑی سے بات کریں اور کہیں میں ابھی روبو ڈوک سے بات کرنا چاہتا ہوں۔”
مستقبل کی عکاسی کرتے ہوئے کاکو نے کہا کہ “آپ اپنے تمام مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ‘روبوڈاکٹر’ کہتا ہے کہ ہمیں ایم آر آئی اسکین کی ضرورت ہے۔ کوئی مسئلہ نہیں، اپنی میڈیسن کیبنٹ میں جائیں اپنی پورٹیبل ایم آر آئی مشین نکالیں اور خود کو اسکین کریں اور فائلوں کو روبوڈوک کو ای میل کریں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “اور اگر آپ دروازے سے باہر نکلتے ہیں اور آپ کو دل کا دورہ پڑتا ہے تو آپ کے کپڑے خود بخود اس حقیقت کی شناخت کر لیں گے کہ آپ کو دل کا دورہ پڑا ہے اور خود بخود آپ کی پوزیشن کا پتہ لگائیں گے، اور آپ کی بے ہوشی کی حالت میں بھی معلومات ڈاکٹر اور ایمبولینس کو بھیجیں گے۔”
“دوسرے لفظوں میں، مستقبل میں آپ کبھی تنہا نہیں مریں گے۔”
روحوں کی لائبریری
مزید دلچسپ پیش گوئیوں میں سے ایک یہ ہے کہ 2077 میں “روحوں کی لائبریری” ہوگی جہاں لوگ مرنے والوں کے ساتھ بات چیت کرسکیں گے۔
ڈاکٹر کاکو نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ “جب آپ لائبریری جاتے ہیں اور ونسٹن چرچل کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں، تو آج آپ ونسٹن چرچل کے بارے میں ایک کتاب نکالتے ہیں۔
“مستقبل میں آپ ونسٹن چرچل سے بات کریں گے۔ آپ لائبریری جائیں گے اور ایک ہولوگرافک تصویر سامنے آئے گی اور ہولوگرام کے دوسری طرف والا شخص ونسٹن چرچل کی طرح لگتا ہوگا، اس کی طرح بات کرتا ہوگا، اس کے تمام طرز عمل، اس کی یادیں، اس کی تمام تقریریں سب کچھ ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ یہ ترقی “بہت جلد” ممکن ہو سکتی ہے، آسان لفظوں میں کہیں تو “آپ امر ہو جائیں گے”۔
انہوں نے مزید کہا، “آپ کے پوتے نواسے لائبریری جائیں گے اور آپ سے بات کریں گے۔”
“وہ اندازہ لگائیں گے کہ آپ کون ہیں، آپ ڈیجیٹل فنگر پرنٹ چھوڑیں گے، آپ کی تمام عادات، آپ کی تمام یادیں، آپ کے احساسات کا نقشہ چھوڑیں گے اور آپ اپنی اولاد کے ساتھ ایک دلچسپ بات چیت کرنے کے قابل ہو جائیں گے چاہے آپ طویل عرصے سے موجود ہی کیوں نہ ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ پورے دماغ کی ڈیجیٹلائزیشن جسے ہیومن کنیکٹوم پروجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، “ڈیجیٹل لافانیت” کا باعث بن سکتی ہے۔
” سوال یہ ہے کہ جب آپ مر جاتے ہیں اور آپ کا کنکشن کمپیوٹر میں زندہ رہتا ہے، تو کیا آپ واقعی مر چکے ہیں؟ اس کے بارے میں ذرا سوچیں۔”
انسان کی اوسط عمر 110 تک ہو جائے گی
آنے والی دہائیوں میں، سائنس دان عمر بڑھنے اور سست ہونے کی جینیات کو سمجھ سکیں گے، اور اس عمل کو مکمل طور پر روک سکیں گے۔
ڈاکٹر کاکو نے کہا کہ توقع ہے کہ2077 تک اوسط عمر 110 سال ہو جائے گی۔
اس حوالے سے جانوروں پر پہلے ہی ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن سے معلوم ہوا کہ زندگی کو طول دینے کا ایک طریقہ کم کھانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “اگر آپ 30 فیصد کم کیلوریز کھاتے ہیں تو آپ 30 فیصد زیادہ زندہ رہتے ہیں۔”
“اس طریقہ کار نے خمیری خلیوں، مکڑیوں، چوہوں، بلیوں، کتوں سے لے کر بندروں تک میں کام کیا ہے۔ ان میں ٹیومر کم ہیں، ذیابیطس کے واقعات کم ہیں، عمر بڑھنے کی تمام علامات سست ہیں۔ صرف ایک ایسا جاندار ہے جس پر ہم نے اس کا تجربہ نہیں کیا ہے اور وہ ہے ہومو سیپیئنز۔ کیونکہ ہم بہت زیادہ زندہ رہتے ہیں اور بہت زیادہ شکایت کرتے ہیں۔”
پیتھالوجسٹ مینوئل سومبرینہو سیموس نے واضح کیا کہ ” ہمارے 120 سال سے آگے نہ جی پانے اور شاید 110 تک بھی پہنچ پانے کی وجہ (سوائے غیر معمولی حالات کے)، ہمارے اعضاء نہیں، بلکہ اعصابی نظام، رگیں ، ہارمونز اور لیمفوسائٹس ہیں۔ جسے ہم ایسوسی ایشن سسٹم (انجمن کا نظام) کہتے ہیں۔”
لیکن کیا ہمارا مستقبل روشن ہوگا؟
اس ساری ترقی کے ساتھ ساتھ خطرے اور تاریک ڈسٹوپین مستقبل کا امکان بھی آتا ہے۔
اگر کسی دن ہم مشینی دماغ بناتے ہیں جو انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دیں تو یہ دماغ بہت طاقتور بن سکتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہیومینٹی انسٹی ٹیوٹ کے مستقبل کے ڈائریکٹر نک بوسٹروم کہتے ہیں کہ “ایک گُڈ کیس سیناریو (اچھے حالات) میں، ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں بہت سارے انتہائی خوش لوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
“پرجوش طور پر خوشی محسوس کرنا اور ہزاروں لاکھوں سالوں تک لامحدود زندگی گزارنا، بات چیت کرنا اور مجازی دنیاؤں کو تخلیق کرنا اور ان کا تجربہ کرنا۔”
“لیکن یہ ہمارے معیارات کے مطابق مکمل طور پر بے معنی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کے افادیت کے فنکشن پر منحصر ہو سکتا ہے جس نے انتہائی ذہانت کو حاصل کیا اور طویل مدتی نتائج کو تشکیل دینے کی پوزیشن تک پہنچ گیا۔”
0 تبصرے